31 اکتوبر 2017 - 16:37
یورپی یونین ایران کو ایک طاقتور ملک اور علاقے میں بااثر قوت تسلیم کرتی ہے

یورپی سیاست کے ایک ایرانی ماہر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے موجودہ واشنگٹن انتظامیہ کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مقامی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں ’’حسین مفیدی‘‘نے کہا کہ یورپی یونین نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے موجودہ واشنگٹن انتظامیہ کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جوہری معاہدے کے تئیں امریکی پالیسیوں کے خلاف یورپی یونین ہم آواز ہے اوراس نے تاریخی معاہدے کو برقراررکھنے کیلئے ڈھائی سالہ نتائج کو اب اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کے برعکس  یورپی یونین اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک طاقتور اور بااثر علاقائی قوت کے طورپر تسلیم کرتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یورپی یونین اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون یورپی سیکورٹی اورمشرق وسطیٰ علاقے میں اسکے مفادات کے تحٖفظ کیلئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ یورپی یونین کو یہ تشویش ہےکہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کی منسوخی سے دنیا کو یہ پیغام جائےگا کہ سفارتکاری سیاسی تنازعات کو حل کرنے میں غیر مؤثر ہے۔

انہوں نے کہاکہ یورپی یونین کو یہ ڈربھی ستارہا ہےکہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کی غیر موجودگی میں واشنگٹن اورتہران کے درمیان کشیدگی کنٹرول سے باہر ہوگی جو علاقے میں ایک اورعسکری تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یورپی لیڈران پہلے سے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ  جوہری معاہدے کے تحٖفظ کیلئے بہت کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر امریکہ یکطرفہ طورپر جوہری معاہدے سے علحٰیدہ ہونے کا فیصلہ کرلیتا ہے اس صورت میں یورپی یونین ایک ایسا گروہ کہ جس میں طاقتور یورپی ریاستیں ،چین ،روس اوردیگر بااثر عالمی طاقتیں شامل ہو کا ایک گروہ تشکیل دینے کی کوشش کرےگی تاکہ کثیر الجہیتی ایران جوہری معاہدے  کیلئے حمایت جھٹائی جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ اسطرح کے گروہ کی تشکیل سے ایران کو یہ یقین دلایاجائے گا کہ اس کی طرف سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی تک اس پر دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔

انہوں نے مزیدکہاکہ  جامع مشترکہ ایکشن پلان کے بعد بہت سی یورپی حکومتوں کا یہ ماننا ہےکہ  امریکہ میں اب دنیا کی قیادت کی صلاحیت موجود نہیں ہے اور امریکہ اپنے مفادات کی خاطر یورپ کو یرغمال نہیں بناسکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲